Saturday, 2 January 2016

دنیا کے راستے پہ لگایا نہ جا سکا

دنیا کے راستے پہ لگایا نہ جا سکا
پاگل سا شخص تھا جو سدھایا نہ جا سکا
وہ پیاس تھی کہ بات گلے میں اٹک گئی
خوابِ شبِ گناہ سنایا نہ جا سکا
ظلمت تو آشکار ہوئی کشفِ نور سے
پر روشنی کا پردہ اٹھایا نہ جا سکا
سورج سفر میں ساتھ تھا نصف النہار پر
میری جلو میں خود مِرا سایہ نہ جا سکا
یہ جبر کا نظام، یہ خود رو مجسمہ
ڈھایا گیا مگر کبھی ڈھایا نہ جا سکا
اک چوبِ نم گرفتہ سلگتی رہی مدام
سینے میں جشنِ شعلہ جگایا نہ جا سکا
بے نام سا گزر گیا خود اپنی اوٹ میں
وہ کون تھا، اسے کبھی پایا نہ جا سکا

آفتاب اقبال شمیم

No comments:

Post a Comment