قلق اور دل کا سوا ہو گیا
دلاسہ تمہارا بلا ہو گیا
دکھانا پڑے گا ہمیں زخمِ دل
اگر تِیر ان کا خطا ہو گیا
وہ امید کیا جس کی ہو انتہا
سماں کل کا رہ رہ کے آتا ہے یاد
ابھی کیا تھا اور کیا سے کیا ہو گیا
سمجھتے تھے جس غم کو ہم جاں گزا
وہ غم رفتہ رفتہ غذا ہو گیا
نہ دے میری امید مجھ کو جواب
رہے وہ خفا گر خفا ہو گیا
ٹپکتا ہے اشعارِ حالیؔ سے حال
کہیں سادہ دل مبتلا ہو گیا
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment