گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ
ہو گئی اک اک گھڑی تجھ بِن پہاڑ
ہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محال
اے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ
کھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکار
عید اور نو روز ہے سب دل کے ساتھ
دل نہیں حاضر تو دنیا ہے اجاڑ
تم نے حالیؔ کھول کر ناحق زبان
کر لیا ساری خدائی کا بگاڑ
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment