Thursday, 6 October 2016

وہ لمحہ کیسا لمحہ تھا

وہ لمحہ کیسا لمحہ تھا
جب اس کی بنجر آنکھوں میں 
خوابوں کی گِیلی قبروں پر 
سکھیوں نے راکھ بکھیری تھی 
وہ لمحہ کیسا لمحہ تھا 
جب اس کے بکھرے بالوں میں 
بستی کے نیک عزیزوں نے 
نمناک لبوں سے چھڑکا تھا 
سیندور اداس دعاؤں کا
وہ لمحہ کیسا لمحہ تھا 
جب اس کے اجلے ہاتھوں میں 
اک جال بُنا محرومی کا 
مہندی کی زرد لکیروں نے 
جب اس کے کندن ماتھے پر 
جھومر کا روپ رچایا تھا 
بے قیمت ضبط کے ہیروں نے
وہ لمحہ کیسا لمحہ تھا 
جب اس کی آنکھیں پوچھتی تھیں 
یہ کون قیامت آئی ہے 
بارات میں شامل چہروں میں 
احساس کے قاتل کتنے ہیں 
اور کون کسی کا بھائی ہے 
کیوں سانسیں رکتی جاتی ہیں 
کیوں نبضیں تیز دھڑکتی ہیں 
یہ کون قیامت آئی ہے 
یہ درد شعاعیں دیتا ہے 
چیخیں ہیں مرنے والوں کی 
یا دور کہیں شہنائی ہے 
وہ لمحہ کیسا لمحہ تھا 
جب اس کی آنکھیں پوچھتی تھیں 
وہ لوگ بھی کتنے اچھے تھے 
جو اپنی چاند سی بیٹی کو 
سانسوں کی اجلی چادر میں 
لپٹا کر خود دفنا دیتے 
پھر اس کی یاد بھلا دیتے
وہ پوچھتی تھی سب سکھیوں سے 
وہ لوگ کہاں آباد ہیں اب 
جو وقت کا شجرہ لکھتے تھے 
اور شجرہ ایسی نسلوں کا 
جو اندھی آنکھ میں خوابوں کی 
تعبیر سجایا کرتی تھیں 
پھر ہنستے ہنستے کہتی تھی 
وہ لوگ کسی کو یاد نہیں 
وہ لوگ کہیں آباد نہیں
وہ لمحہ کیسا لمحہ تھا 
جب اس کے سُندر چہرے پر 
زرداب رُتوں کی تنہائی 
بکھری تو غازہ لگتی تھی 
جب سیج جنازہ لگتی تھی
اب اس کے سُونے آنگن میں 
مرجھائی ہوئی کچھ بیلوں کو 
اک تتلی چومنے آتی ہے 
اب اس کے خالی کمرے میں 
بکھرے ہوۓ سُوکھے پھولوں کو 
پاگل وحشی منہ زور ہوا 
بے وجہ اڑا لے جاتی ہے 
اور اس کی سکھیاں سوچتی ہیں 
جیسے کہسار کے سینے میں 
اک قیمتی چیز گنوا آئیں 
اک میت کو دفنا آئیں
وہ لمحہ کیسا لمحہ تھا

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment