Wednesday, 12 October 2016

اندھیرا رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں

اندھیرا 

رات کے ہاتھ میں اک کاسۂ دریوزہ گری
یہ چمکتے ہوئے تارے یہ دمکتا ہوا چاند
بھیک کے نور میں مانگے کے اجالے میں مگن
یہی ملبوسِ عروسی ہے، یہی ان کا کفن
اس اندھیرے میں وہ مرتے ہوئے جسموں کی کرّاہ
وہ عزازیل کے کتوں کی کمیں گاہ
وہ تہذیب کے زخم، باڑھ کے تار
باڑھ کے تاروں  میں  الجھے ہوئے انسانوں کے جسم
اور انسانوں کے جسموں پہ وہ بیٹھے ہوئے گِدھ
وہ تڑختے ہوئے سر
میّتیں ہاتھ کٹی، پاؤں کٹی
لاش کے ڈھانچے کے اِس پار سے اُس پار تلک
سرد ہوا، نوحہ و نالہ و فریاد کناں
شب کے سناٹے میں رونے کی صدا
کبھی بچوں کی، کبھی ماؤں کی
چاند کے تاروں کے ماتم کی صدا
رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم
صرف خورشیدِ درخشاں کے نکلنے تک ہے
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں

مخدوم محی الدین

No comments:

Post a Comment