رخصت
ہے بھیگ چلی رات، پُر افشاں ہے قمر بھی
ہے بارشِ کیف اور ہوا خواب اثر بھی
اب نیند سے جھکنے لگیں تاروں کی نگاہیں
نزدیک چلا آتا ہے ہنگامِ سحر بھی
میں اور تم اس خواب سے بے زار ہیں دونوں
ہاں آج مجھے دور کا درپیش سفر ہے
رخصت کے تصور سے حزیں قلب و جگر ہے
آنکھیں غمِ فرقت میں ہیں افسردہ و حیراں
اک سیلِ بلا خیز میں گم تار نظر آتا ہے
آشفتگیِ روح کی تمہید ہے یہ رات
اک حسرتِ جاوید کا پیغام سحر ہے
میں اور تم اس رات ہیں غمگین و پریشاں
اک سوزشِ پیہم میں گرفتار ہیں دونوں
گہوارۂ آلامِ خلش ریز ہے یہ رات
اندوہِ فراواں سے جنوں خیز ہے یہ رات
نالوں کے تسلسل سے ہیں معمور فضائیں
سرد آہوں سے، گرم اشکوں سے لبریز ہے یہ رات
رونے سے مگر روح تن آساں نہیں ہوتی
تسکینِ دل و دیدۂ گِریاں نہیں ہوتی
میری طرح اے جان! جنوں کیش ہے تُو بھی
اک حسرتِ خونیں سے ہم آغوش ہے تُو بھی
سینے میں مِرے جوشِ تلاطم سا بپا ہے
پلکوں میں لیے محشرِ پُر جوش ہے تُو بھی
کل تک تِری باتوں سے مِری روح تھی شاداب
اور آج کس انداز سے خاموش ہے تُو بھی
وارفتہ و آشفتہ و کاہیدۂ غم ہیں
افسردہ مگر شورشِ پنہاں نہیں ہوتی
میں نالۂ شب گیر کے مانند اٹھوں گا
فریادِ اثر گیر کے مانند اٹھوں گا
تُو وقتِ سفر مجھ کو نہیں روک سکے گی
پہلو سے تیرے تیر کے مانند اٹھوں گا
گھبرا کے نکل جاؤں گا آغوش سے تیری
عشرت گہِ سرمست و ضیا پوش سے تیری
ہوتا ہوں جدا تجھ سے بصد بے کسی و یاس
اے کاش، ٹھہر سکتا ابھی اور تِرے پاس
مجھ سا بھی کوئی ہو گا سیہ بخت جہاں میں
مجھ سا بھی کوئی ہو گا اسیرِ الم و یاس
مجبور ہوں، لاچار ہوں کچھ بس میں نہیں ہے
دامن کو مِرے کھینچتا ہے ’فرض‘ کا احساس
بس ہی میں نہیں ہے مِرے لاچار ہوں میں بھی
تُو جانتی ہے ورنہ وفادار ہوں میں بھی
ہو جاؤں گا میں تیرے طرب زار سے رخصت
اس عیش کی دنیائے ضیا بار سے رخصت
ہو جاؤں گا اک یادِ غم انگیز کو لے کر
اس خلد سے، اس مسکنِ انوار سے رخصت
تُو ہو گی، مگر بزمِ طرب باز نہ ہو گی
یہ ارضِ حسیں جلوہ گہِ راز نہ ہو گی
میں صبح نکل جاؤں گا تاروں کی ضیا میں
تُو دیکھتی رہ جائے گی سنسان فضا میں
کھو جاؤں گا اک کیف گہِ روح فزا میں
آغوش میں لے لے گی مجھے صبحِ درخشاں
‘او میرے مسافر! مِرے شاعر، مِرے راشؔد’
تُو مجھ کو پکارے گی خلش ریز نوا میں
اس وقت کہیں دور پہنچ جائے گا راشؔد
مرہونِ سماعت تِری آواز نہ ہو گی
ن م راشد
No comments:
Post a Comment