پھر وہی شہر، وہی کوئے بتاں سامنے ہے
پھر وہی دَیر، وہی بزمِ مغاں سامنے ہے
پھر وہی مست بہاریں ہیں مِری راتوں پر
پھر اسی طرح، صفِ گلبدناں سامنے ہے
پھر مِری غمزدہ آنکھوں میں خوشی ہے رقصاں
پھر مِرے لب پہ ہیں اشعار رواں حافظ کے
پھر کوئی نغمۂ شاداب و جواں سامنے ہے
پھر فسوں کار ہے اک مۓ کدہ ابر بدوش
پھر کوئی دیدۂ افسانہ چکاں سامنے ہے
اختر شیرانی
No comments:
Post a Comment