Sunday, 1 January 2017

وہ چل رہا ہے مرے ساتھ یا نہیں چلتا

وہ چل رہا ہے مِرے ساتھ یا نہیں چلتا
کچھ ایسی دھند ہے کچھ بھی پتہ نہیں چلتا
بس ایک جھوٹ ہمارا نہ چل سکا ورنہ
فریب خانۂ دنیا میں کیا نہیں چلتا
وہ شہر آنکھ سے محروم ہی نہ ہو جس میں
تِرا چراغ، مِرا آئینہ نہیں چلتا
کہیں کہیں کسی ٹکڑے میں سانس لیتا ہوں
میں جی رہا ہوں کہاں تک، پتہ نہیں چلتا

کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment