ہنسی نہ دے سکا مگر مجھے ملال دے گیا
وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا
وفا کو پھر لغّات میں فریب ہی لکھا گیا
وہ چاہتوں کو دیکھئے عجب مثال دے گیا
پھر آئینے کے رو برو تمام عکس کھو گئے
تمام عمر ہم جواب ڈھونڈتے رہیں گے اب
کمال یہ کِیا ہمیں نیا سوال دے گیا
مقدروں سے کھیلتے رہیں گے روز و شب مرے
وہ وقت کی بساط پر نئی ہی چال دے گیا
نجمہ شاہین کھوسہ
No comments:
Post a Comment