فلمی گیت
مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم اس دیس میں پھر نہ آؤں گا
مالک نے اگر بھیجا بھی مجھے میں راہوں میں کھو جاؤں گا
اس دیس میں پھر نہ آؤں گا
اشکوں کو پیا ہونٹوں کا سیا ہر زخم چھپایا سینے کا
کس جرم میں ظالم دنیا نے حق چھین لیا ہے جینے گا
سینے سے لگا کر دکھ سارے اس محفل سے اٹھ جاؤں گا
راتوں کو یہاں امید بندھی اور صبح سہارے ٹوٹ گئے
کتنے ہی یہاں سورج ڈوبے کتنے ہی ستارے ٹوٹ گئے
میرے گیت سنے گا کون یہاں ٹوٹا دل کسے دکھاؤں گا
اس دیس میں پھر نہ آؤں گا
دنیا کے بجھانے سے پہلے آشا کے دیپ بجھا دوں گا
جو سانس دیئے ہیں مالک نے وہ سانس اسے لوٹا دوں گا
یہاں لوگ لٹیرے بستے ہیں میں اب اپنوں میں جاؤں گا
اس دیس میں پھر نہ آؤں گا
مشیر کاظمی
ITS VERY GOOD
ReplyDelete