Sunday, 1 January 2017

مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم اس دیس میں پھر نہ آؤں گا

فلمی گیت

مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم اس دیس میں پھر نہ آؤں گا
مالک نے اگر بھیجا بھی مجھے  میں راہوں میں کھو جاؤں گا
اس دیس میں پھر نہ آؤں گا

اشکوں کو پیا ہونٹوں کا سیا ہر زخم چھپایا سینے کا
کس جرم میں ظالم دنیا نے حق چھین لیا ہے جینے گا
سینے سے لگا کر دکھ سارے اس محفل سے اٹھ جاؤں گا
اس دیس میں پھر نہ آؤں گا

راتوں کو یہاں امید بندھی اور صبح سہارے ٹوٹ گئے
کتنے ہی یہاں سورج ڈوبے کتنے ہی ستارے ٹوٹ گئے
میرے گیت سنے گا کون یہاں ٹوٹا دل کسے دکھاؤں گا
اس دیس میں پھر نہ آؤں گا

دنیا کے بجھانے سے پہلے آشا کے دیپ بجھا دوں گا
جو سانس دیئے ہیں مالک نے وہ سانس اسے لوٹا دوں گا
یہاں لوگ لٹیرے بستے ہیں میں اب اپنوں میں جاؤں گا
اس دیس میں پھر نہ آؤں گا

مشیر کاظمی

1 comment: