رنگ موسم کا تھا پیغام خزاں سے آیا
جھلملاتا ہوا احساس کہاں سے آیا
دوستی شمع سے اور پیار ہواؤں جیسا
اس کہانی کا تھا انجام دھواں سے آیا
امن کی فاختہ بھیجی تھی پرے سرحد سے
فقر و فاقہ سے وہ گھبرائے ہوئے لوگ سبھی
ان کے لہجے میں یہ ہیجان کہاں سے آیا
ایک الجھی ہوئی گتھی ہے سلجھ جائے گی
ایک روشن ہوا امکان نہاں سے آیا
خواب میں خواب کی تعبیر نہ پوچھو ہم سے
ان خیالات کا ابہام جہاں سے آیا
زرد پھولوں کی طرح دل بھی بہت مدھم ہے
اپنی دھڑکن کا تخیل بھی گماں سے آیا
شائستہ مفتی
No comments:
Post a Comment