Friday, 24 July 2020

رنگ موسم کا تھا پیغام خزاں سے آیا

رنگ موسم کا تھا پیغام خزاں سے آیا
جھلملاتا ہوا احساس کہاں سے آیا
دوستی شمع سے اور پیار ہواؤں جیسا
اس کہانی کا تھا انجام دھواں سے آیا
امن کی فاختہ بھیجی تھی پرے سرحد سے
ایک ٹوٹا ہوا ارمان وہاں سے آیا
فقر و فاقہ سے وہ گھبرائے ہوئے لوگ سبھی
ان کے لہجے میں یہ ہیجان کہاں سے آیا
ایک الجھی ہوئی گتھی ہے سلجھ جائے گی
ایک روشن ہوا امکان نہاں سے آیا
خواب میں خواب کی تعبیر نہ پوچھو ہم سے
ان خیالات کا ابہام جہاں سے آیا
زرد پھولوں کی طرح دل بھی بہت مدھم ہے
اپنی دھڑکن کا تخیل بھی گماں سے آیا

شائستہ مفتی

No comments:

Post a Comment