Saturday, 25 July 2020

اٹھ کر مری نظر ترے رخ پہ ٹھہر گئی

اٹھ کر مِری نظر تِرے رخ پہ ٹھہر گئی
وہ سیرِ رنگ و بو کی "تمنا" کدھر گئی
کچھ اتنا "بے ثبات" تھا ہر منظرِ حیات
اک زخم کھا کے آئی جدھر بھی نظر گئی
تیرے "بغیر" رنگ نہ آیا "بہار" میں
اک اک "کلی" کے پاس نسیمِ سحر گئی
شبنم ہو، کہکشاں ہو، ستارے ہوں، پھول ہوں
جو شے تمہارے سامنے آئی نکھر گئی
ہر چند میرے غم کا "مداوا" نہ ہو سکا
پھر بھی تِری نگاہ بڑا "کام" کر گئی
وارفتگانِ "شوق" کا باقی نہ حال پوچھ
دل سے اٹھی وہ موج کہ سر سے گزر گئی

باقی صدیقی

No comments:

Post a Comment