Friday, 24 July 2020

نہ راستے ہی میں ٹھہریں نہ اپنے گھر جائیں

نہ راستے ہی میں ٹھہریں نہ اپنے گھر جائیں
یہ فیصلے کی گھڑی ہے، چلو بکھر جائیں
تیرا وجود ہی سچ ہے مگر ہمیں تجھ سے
وہ عشق ہے کہ تجھے سوچ کر ہی مر جائیں
اب اس صدی کی جو یہ آخری دھائی ہے
ہم اس کو کیوں نہ محبت کے نام کر جائیں
کبھی تو لگتا ہے یہ سارا شور ہم سے ہے
اور کبھی ہم اپنی ہی آواز سن کے ڈر جائیں
بہار وصل سے گزروں تو پھول بن جاؤں
چمن کے رنگ مِری چوڑیوں میں بھر جائیں
ہماری وحشتیں اس تجربے میں ہیں روحی
جو ہو سکے تو مقدر بھی پار کر جائیں
تمہاری بات بھی سچ ہے مگر ہمیں تم سے
وہ عشق ہے کہ تمہیں سوچ کر ہی مر جائیں

ریحانہ روحی

No comments:

Post a Comment