ہر سمت ہے جو پیار کا پر چار شہر میں
ساری منافقت ہے مِرے یار شہر میں
بدلے ہیں یہ وفا نے جو اطوار شہر میں
پھرتا ہے مضطرب سا ہوا پیار شہر میں
اک عمر تک سکوں سے وہ سویا رہے جہاں
اس کو بلاؤ، سارے پرندے اداس ہیں
تھا ایک ہی شجر وہ ثمر بار شہر میں
بدلہ وفا کا مانگتے ہیں اور لوگ بھی
میں ہی تو اک نہیں ہوں گنہگار شہر میں
رہتے ہیں منتظر سدا گاؤں کے راستے
لوٹا نہیں، جو آ گیا اک بار شہر میں
اس نے مخالفین کے لہجے میں بات کی
جس کو سمجھ رہی تھی طرفدار شہر میں
فوزی تو اپنا قیمتی ساماں سمیٹ لے
چاروں طرف ہے ظلم کا انگار شہر میں
فوزیہ شیخ
No comments:
Post a Comment