وہ فرصتیں نئے دنوں کی یاد کیا دلائیے
زمانہ تیز رو ہے، اب شکست مان جائیے
نئی سی دلفریبیوں کی آرزو تھی زندگی
مآلِ کار اک نیا فریب ہے، سو کھائیے
وہ آستانِ یار تو گئے دنوں کی بات ہے
یہ شاہراہِ وقت ہے، سو بوریا اٹھائیے
تبسم ایک زیرِ لب بھی ہم پہ بار ہے، مگر
ہمی سے لوگ کہہ رہے ہیں، کھل کے مسکرائیے
صبا کی نرم آہٹیں سی آ رہی ہیں کان میں
فقس کی سخت تِیلیوں سے سر ذرا ٹکائیے
ذرا سی ایک آس پر کہ خوں بہا ملے کوئی
اب اپنا قتل کیجئے ہزاروں خوں بہائیے
اور اب تو کاروبارِ عشق بھی نہیں ہے بے سبب
جواب منفعت میں ہو تو پھر قدم اٹھائیے
مصیبتوں نے بے چراغ کر دیا اگر، تو کیا
دِیا بجھا دیا گیا ہے، دل تو مت بجھائیے
پیرزادہ قاسم صدیقی
No comments:
Post a Comment