جام توڑوں بھی تو آنکھوں سے پلانا چاہے
پھر وہ ظالم مجھے مے خوار بنانا چاہے
اس کا وہ پیار، کہ برسات کی پہلی بارش
جس میں انسان لگا تار نہانا چاہے
جب بھی آئے تو لگے وہ مجھے اُکتایا ہوا
لیکن ایسے کہ پلٹ کر بھی نہ جانا چاہے
ہاتھ رکھ دے مرے ہونٹوں پہ اگر میں بولوں
مجھ کو محفل کے وہ آداب سکھانا چاہے
جب تعلق نہ رہا کوئی تو جھگڑا کیسا؟
شاید اب وہ مرا دل بھی نہ دُکھانا چاہے
جرم کیا تھا مرا، اظہارِ تمنا کے سوا؟
وہ مجھے ضبط کی سولی پہ چڑھانا چاہے
دل کو یوں تھپکیاں دیتا ہوں کہ جیسے کوئی
اپنے روتے ہوئے بچے کو سُلانا چاہے
میں تو فرسودہ روایات کا منکر ہوں قتیل
میں بھی کیوں چاہوں وہی جو یہ زمانہ چاہے
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment