Sunday, 20 December 2020

کسی نظر کو ترا انتظار آج بھی ہے

 فلمی گیت


کسی نظر کو ترا انتظار آج بھی ہے

کہاں ہو تم کہ یہ دل بےقرار آج بھی ہے

وہ وادیاں وہ فضائیں کہ ہم ملے تھے جہاں

مری وفا کا وہیں پر مزار آج بھی ہے

نجانے دیکھ کے کیوں ان کو یہ ہوا احساس

کہ میرے دل پہ انہیں اختیار آج بھی ہے

وہ پیار جس کیلئے ہم نے چھوڑ دی دنیا

وفا کی راہ میں گھائل وہ پیار آج بھی ہے

یقیں نہیں ہے مگر آج بھی یہ لگتا ہے

مری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے

نہ پوچھ کتنے محبت کے زخم کھائے ہیں

کہ جن کو سوچ کے دل سوگوار آج بھی ہے


حسن کمال

No comments:

Post a Comment