فلمی گیت
کسی نظر کو ترا انتظار آج بھی ہے
کہاں ہو تم کہ یہ دل بےقرار آج بھی ہے
وہ وادیاں وہ فضائیں کہ ہم ملے تھے جہاں
مری وفا کا وہیں پر مزار آج بھی ہے
نجانے دیکھ کے کیوں ان کو یہ ہوا احساس
کہ میرے دل پہ انہیں اختیار آج بھی ہے
وہ پیار جس کیلئے ہم نے چھوڑ دی دنیا
وفا کی راہ میں گھائل وہ پیار آج بھی ہے
یقیں نہیں ہے مگر آج بھی یہ لگتا ہے
مری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے
نہ پوچھ کتنے محبت کے زخم کھائے ہیں
کہ جن کو سوچ کے دل سوگوار آج بھی ہے
حسن کمال
No comments:
Post a Comment