کیا کیا صدائیں سنتے ہیں خالی مکاں سے ہم
بہتر تو یہ ہے بھاگ چلیں اب یہاں سے ہم
سر سبز وادیوں کی طرح محوِ خواب وہ
اور دُھوپ میں جھُلستے ہوئے سائباں سے ہم
وہ دُور آسمان پہ چڑھتی پتنگ کی
اک ڈور تھے کہ ٹُوٹ گئے درمیاں سے ہم
رُوحوں کا غول تھا کہ کھڑا چیختا رہا
باہر نکل کے جا نہ سکے جسم و جاں سے ہم
خواہش کی آگ تھی کہ جلاتی رہی ہمیں
تحلیل ہو گئے ہیں فضا میں دُھواں سے ہم
ایوب سلیم
No comments:
Post a Comment