کسی موج نے ڈبویا، کسی موج نے اُبھارا
اسی کشمکش میں آخر مجھے مل گیا کنارا
نہ سرِشکِ شمعِ محفل نہ بجھا بجھا شرارا
وہ چراغِ آرزو ہوں جو نہ جل سکا دوبارا
ہوا نذر تِیرہ بختی، شبِ غم کا ہر سہارا
نہ پلک پہ کوئی آنسو، نہ فلک پہ کوئی تارا
مِری آرزو کا حاصل مِری زیست کا سہارا
وہی لمحہ زندگی کا، تِرے ساتھ جو گزارا
مجھے دل کی دھڑکنوں پہ ہوا بارہا یہ دھوکہ
کہیں پاس ہی سے جیسے مجھے آپ نے پکارا
تِری یاد بھی ستمگر، تِری ہم خیال نکلی
کبھی بن گئی سہارا، کبھی کر گئی کنارا
کہیں شورشِ جنوں ہے کہیں موجۂ سکوں ہے
یہی زندگی تلاطم، یہی زندگی کنارا
سرِ کوہِ طورِ موسیٰ جسے دیکھ کر ہوئے غش
کوئی آپ سے یہ پوچھے وہ نظر تھی یا نظارا
کبھی میرے آنسوؤں کی سنی التجا نہ تم نے
مِری بے زبانیوں نے تمہیں بارہا پکارا
یہ عجیب ماجرا ہے مِرے غم نصیب دل کا
کہ جو موج لے کے ڈوبی وہی بن گئی کنارا
حزیں صدیقی
No comments:
Post a Comment