ایک جیسا چین ہو گا ایک جیسی بے کلی
بِن ہمارے دیکھ لینا روئے گی تیری گلی
کل جسے رُخصت کیا تھا باپ نے روتے ہوئے
سر جھکائے رو رہی تھی آج وہ نازوں پلی
جانے کیوں کڑوا ہوا تھا سب کے منہ کا ذائقہ
ان کے گھر پیدا ہوئی جب ایک مِصری کی ڈلی
اک ذرا سا فرق تھا اس کے مِرے مقسوم میں
وہ مقدر کا دھنی تھا، میں نصیبوں کی جلی
سارے غم رخصت ہوئے جب وقتِ رُخصت آ گیا
سر سے میرے سانس لینے کی مصیبت بھی ٹلی
تھم گئیں واصف سبھی لوح و قلم کی گردشیں
شام کی گلیوں میں زینب سر برہنہ جب چلی
جبار واصف
No comments:
Post a Comment