کیا دن تھے کہ ہر دل پہ تھی سلطانی ہماری
اب خود پہ بھی چلتی نہيں من مانی ہماری
بوسے ہیں کہ زخموں کے نشاں بول اُٹھیں گے
دیکھے تو کوئی غور سے پیشانی ہماری
وہ ٹوٹ کے بکھرا ہے تو ہم جُڑنے لگے ہیں
آئینے سے بہتر نہيں حیرانی ہماری
اے کوچۂ جاناں کی ہوا یہ تو بتا دے
کس حال میں زندہ ہے وہ دیوانی ہماری
ممکن ہے کہ کچھ وقت اگر ساتھ گزاریں
آباد کرے شہر کو ویرانی ہماری
پھر کون دِلا! تیرے فقیروں کی سنے گا
تُو نے بھی اگر بات نہيں مانی ہماری
ہم اس کو پریشان کِیے رکھتے ہیں عامی
جس شخص پہ جچتی ہو پریشانی ہماری
عمران عامی
No comments:
Post a Comment