زاویے بہاروں کے سب حسین ہوتے ہیں
جھوٹ کے سبھی موسم بے یقین ہوتے ہیں
ہم بھی جان کر ان سے عہد و پیماں کرتے ہیں
اس کے جھوٹے وعدے بھی دلنشین ہوتے ہیں
جھیلتے ہیں سارا دکھ لب پہ کچھ نہیں لاتے
درد کی رفاقت کے جو امین ہوتے ہیں
سیپ میں ہی رہتے ہیں صورت صدف بن کر
دل میں یاد کے موتی یوں مکین ہوتے ہیں
استوار رکھتے ہیں زندگی سے سب رشتے
عشق کرنے والے بھی کیا ذہین ہوتے ہیں
سحر علی
No comments:
Post a Comment