Tuesday, 1 June 2021

زاویے بہاروں کے سب حسین ہوتے ہیں

 زاویے بہاروں کے سب حسین ہوتے ہیں

جھوٹ کے سبھی موسم بے یقین ہوتے ہیں

ہم بھی جان کر ان سے عہد و پیماں کرتے ہیں

اس کے جھوٹے وعدے بھی دلنشین ہوتے ہیں

جھیلتے ہیں سارا دکھ لب پہ کچھ نہیں لاتے

درد کی رفاقت کے جو امین ہوتے ہیں

سیپ میں ہی رہتے ہیں صورت صدف بن کر

دل میں یاد کے موتی یوں مکین ہوتے ہیں

استوار رکھتے ہیں زندگی سے سب رشتے

عشق کرنے والے بھی کیا ذہین ہوتے ہیں


سحر علی

No comments:

Post a Comment