ہنس کھیل کر گزارو گھڑی تم شباب کی
ہوتی ہے مختصر سی حیاتی حباب کی
اس بات پر ہوئے ہیں خفا اہلِ گلستاں
چُومی تھی میں نے پنکھڑی اک دن گلاب کی
وہ شب جو استعارہ بنی تھی وصال کا
قصہ شباب کا وہ کہانی ہے خواب کی
اک شخص بن گیا ہے مِرے دل کا اب سرور
جس میں رچی ہوئی ہے جھلک ماہتاب کی
اپنے گُنہ کو دے کے کسی دوسرے کا نام
نِبھتی ہے خوب رسم یہاں احتساب کی
مجھ سے جو ہجرتوں کے سفر میں ملا تھا رض
اب تک وجود میں ہے مہک اس گلاب کی
رضوانہ ملک
No comments:
Post a Comment