کیوں میرے دُکھ چُنتے ہو
تم میرے کیا لگتے ہو؟
مجھ کو جوڑنے بیٹھے ہو
اندر سے خود ٹُوٹے ہو
میرے دُکھ کی تہیں ہزار
کیوں خود کو اُلجھاتے ہو
مجھ کو سب کچھ مان لیا
تم بھی کتنے بھولے ہو
پیار، محبت، عشق، وفا
کیسی باتیں کرتے ہو
دھیان کے کورے کاغذ پر
کیا کیا لکھتے رہتے ہو
دنیا سب کچھ پڑھتی ہے
دنیا کو کیا سمجھے ہو
میں اک آوارہ جھونکا
گھر میں کب تک رکھتے ہو
سلیمان خمار
No comments:
Post a Comment