Monday, 8 November 2021

ہمارے سر ہر اک الزام دھر بھی سکتا ہے

 ہمارے سر ہر اک الزام دھر بھی سکتا ہے

وہ مہرباں ہے یہ احسان کر بھی سکتا ہے

چمن! تُو اپنی بہاروں پہ اتنا ناز نہ کر

شجر سے حُسن کا زیور اُتر بھی سکتا ہے

وہ جس نے زیست گزاری ہے قیدِ ظلمت میں

وہ اک کرن سے اُجالے کی ڈر بھی سکتا ہے

کہاں تک آپ لگائیں گے اس پہ ضبط کے باندھ

کبھی یہ آنکھوں کا دریا بپھر بھی سکتا ہے

یہ خاک و سنگ ہی کیا سطحِ آب پر شارب

ہمارا نقشِ قدم ہے، اُبھر بھی سکتا ہے


شارب مورانوی

No comments:

Post a Comment