مجھ کو آتے ہیں نظر دھڑ یہاں دیواروں میں
نہیں دِکھتا ہے مگر سر کوئی دستاروں میں
سُرخ آنکھوں کا بھی اک اپنا فسوں ہوتا ہے
بیٹھ کر دیکھ کسی روز تُو مے خواروں میں
کیا عجب دور ہے کے کوئی طلبگار نہیں
ہر جگہ بکنے کو یوسف گئے بازاروں میں
آتشِ عشق حوادث سے ہوئی کچھ مدہم
اور کچھ بات نہیں ہیر سی دلداروں میں
ہم جو ساحل پہ ہیں چپ چاپ کھڑے تو نہ سمجھ
ہم نہیں اُترے کبھی بپھری ہوئی لہروں میں
نہیں فرصت کے کبھی تیرے متعلق سوچیں
زندگی تھے کبھی ہم تیرے طلبگاروں میں
ہم کو دشمن کی نگاہوں سے نہ دیکھو ہمدم
نام آتا تھا کبھی اپنا تیرے پیاروں میں
الطاف فیروز
No comments:
Post a Comment