Monday, 19 September 2022

سانس لیتا ہوں زندگی کے لیے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


سانس لیتا ہوں زندگی کے لیے

میں تو جِیتا ہوں بندگی کے لیے

آپﷺ آقا ہیں میں غلام حضورؐ

نعت پڑھتا ہوں سرخوشی کے لیے

دِل یہ کرتا ہے ہر گھڑی در پر

خود کو پاؤں میں حاضری کے لیے

تیراﷺ ہر امتی خدا کے حضور

سر جھکاتا ہے عاجزی کے لیے

اپنی امت کے واسطے بخشا

پورا قرآن رہبری کے لیے

تری رحمت ہے پورے عالم میں

روشنی ردِ تِیرگی کے لیے

تیرے روضے کی جالیاں حیدر

چومتا ہے قلندری کے لیے


فرقان حیدر

No comments:

Post a Comment