عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یاد نبیؐ سے عشق کے غنچے نکھر گئے
ایسا لگا کہ زیست کے رستے سنور گئے
شہر رسولﷺ دیکھ کر اتنا سکوں ملا
دل سے دیارِ غیر کے منظر اتر گئے
بستی گئیں ہزارہا پھولوں کی بستیاں
جان بہارﷺ جان گلستانﷺ جدھر گئے
اس وقت فرط شوق کا عالم نہ پوچھیۓ
اللہ کے گھر کے بعد جب آقاؐ کے گھر گئے
پھر مصطفیٰؐ کے نام کی اک میم بن گئی
اقصیٰ میں انبیاء کے جو سجدے میں سر گئے
تھے سامنے حضورؐ بھی ہونٹوں پہ تھے سلام
پُل سے بس ایک پَل میں ہم تو گزر گئے
لکھتا رہا مدح شہﷺ دو جہاںﷺ مدام
دن اس طرح سے زیست کے ہوتے بسر گئے
جب سے نبیؐ کے نام کو لب پر سجا لیا
ناصر مجھے تو پار لگانے بھنور گئے
ناصر چشتی
No comments:
Post a Comment