Monday, 12 February 2024

کس کو آواز لگاتا ہے بیابانوں میں

کس کو آواز لگاتا ہے بیابانوں میں

دل ناداں نہیں رہتا کوئی ویرانوں میں

موج در موج ہی گزری ہے یہاں عمر اپنی

ہم نے ساحل نہیں ڈھونڈا کبھی طوفانوں میں

لیلیٰ مجنوں کی کہانی ہو کے فرہاد کا غم

قصہ اپنا ہی ہے ممتاز سب افسانوں میں

تھرتھراتی ہے جو رہ رہ کے یہ شمع سحری

اک تلاطم سا بپا رہتا ہے پروانوں میں

دست خواہش نے دیا کیا مجھے زخموں کے سوا

پر کمی اب بھی نہیں آئی ہے ارمانوں میں

آئی آزاد ہوا ہو گئے بے چین پرند

ذکر صیاد کا پھر چھڑ گیا زندانوں میں


مریم فاطمہ

No comments:

Post a Comment