کس کو آواز لگاتا ہے بیابانوں میں
دل ناداں نہیں رہتا کوئی ویرانوں میں
موج در موج ہی گزری ہے یہاں عمر اپنی
ہم نے ساحل نہیں ڈھونڈا کبھی طوفانوں میں
لیلیٰ مجنوں کی کہانی ہو کے فرہاد کا غم
قصہ اپنا ہی ہے ممتاز سب افسانوں میں
تھرتھراتی ہے جو رہ رہ کے یہ شمع سحری
اک تلاطم سا بپا رہتا ہے پروانوں میں
دست خواہش نے دیا کیا مجھے زخموں کے سوا
پر کمی اب بھی نہیں آئی ہے ارمانوں میں
آئی آزاد ہوا ہو گئے بے چین پرند
ذکر صیاد کا پھر چھڑ گیا زندانوں میں
مریم فاطمہ
No comments:
Post a Comment