اسِیری بے مزہ لگتی ہے بِن صیّاد کیا کیجے
قفس کے کُنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجے
مِری تمکیں گئی مثلِ جرس برباد کیا کیجے
کہ میں تو چُپ ہوں پر کرتا ہے دل فریاد کیا کیجے
اثر کرتا نہیں بِن سجدۂ تسلیم کے نالہ
ہم اس مصرع پہ غیر از حلقۂ قد صاد کیا کیجے
اسِیری بے مزہ لگتی ہے بِن صیّاد کیا کیجے
قفس کے کُنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجے
مِری تمکیں گئی مثلِ جرس برباد کیا کیجے
کہ میں تو چُپ ہوں پر کرتا ہے دل فریاد کیا کیجے
اثر کرتا نہیں بِن سجدۂ تسلیم کے نالہ
ہم اس مصرع پہ غیر از حلقۂ قد صاد کیا کیجے
یوسف کی طرح رونق بازار میں ہی تھا
پونجی تھا میں ہی اور خریدار میں ہی تھا
وہ جس کے تیر سے مرا سینہ ہوا فگار
گر تو یقیں کرے مرے غمخوار میں ہی تھا
کل میکدے میں ٹھیک ہی دیکھا تھا آپ نے
با صاحبان جبہ و دستار میں ہی تھا
مِری نگاہ میں جاہل ہیں آپ کیا جانیں
سمجھتے خود کو جو فاضل ہیں آپ کیا جانیں
یہ وار کرتے ہیں لیکن دلوں پہ کرتے ہیں
یہ حُسن والے بھی قاتل ہیں آپ کیا جانیں
کِھلا رہے ہیں جو کھانا یہاں فقیروں کو
وہ لوگ پیار کے قابل ہیں آپ کیا جانیں
نگری
میرا بسیرا نگری کے پھاٹکوں سے باہر ہے
بے سُود ہے میرا نگری میں سُرنگ لگانا
اس پر پرواز کرنا
اس کا محاصرہ کرنا
اس میں گُھسنا
سب سے اونچے مینار پر چڑھنا
ہم کہاں آ گئے
جبر کے مستقل سلسلے، اور ہم
آندھیوں کے مقابل دِیے، اور ہم
اک سفر خواب کے اک نگر کی طرف
اور بڑھتے ہوئے فاصلے، اور ہم
اے دلِ بے خبر، ہم کہاں آ گئے؟
اے مِرے ہمسفر، ہم کہاں آ گئے؟
واپسی
ہم جب جنگل سے نکل کر
بستی میں آئے
تو اپنے ننگے بدن دیکھ کر
شرما گئے
اور پھر ہم نے توضیح کی
کہاں اے پردہ نشیں خُود کو چھُپایا ہوا ہے
تیرا دیوانہ تِرے شہر میں آیا ہوا ہے
تیری تصویر نے تسخیر کیا ہے دل کو
تیرا ہی عکس مِرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے
دل ہے سادہ کہ سمجھ بیٹھا ہے اس کو غمخوار
وہ جو اپنے ہی کسی کام سے آیا ہوا ہے