جانے اب کس دیس ملیں گے اونچی ذاتوں والے لوگ
نیک نگاہوں، سچے جذبوں کی سوغاتوں والے لوگ
پیاس کے صحراؤں میں دھوپ پہن کر پلتے بنجارو
پلکوں اوٹ تلاش کرو بوجھل برساتوں والے لوگ
وقت کی اڑتی دھول میں اپنے نقش گنوائے پھرتے ہیں
ایک بھکارن ڈھونڈ رہی تھی رات کو جھوٹے چہروں میں
اجلے لفظوں، سچی باتوں کی خیراتوں والے لوگ
آنے والی روگ رُتوں کا پُرسہ دیں ہر لڑکی کو
شہنائی کا درد سمجھ لیں گر باراتوں والے لوگ
پتھر کوٹنے والوں کو بھی شیشے جیسی سانس ملے
محسنؔ روز دعائیں مانگیں، زخمی ہاتوں والے لوگ
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment