Tuesday, 4 November 2014

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا
یہ الگ بات، کہ ممکن نہیں ایسا ہونا
دیکھتا اور نہ ٹھہرتا تو کوئی بات بھی تھی
جس نے دیکھا ہی نہیں اس سے خفا کیا ہونا
تجھ سے دوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرح
بس کسی وقت برا لگتا ہے تنہا ہونا
یوں میری یاد میں محفوظ ہیں تیرے خدوخال
جس طرح دل میں کسی شے کی تمنا ہونا
زندگی معرکۂ روح و بدن ہے مشتاقؔ
عشق کے ساتھ ضروری ہے ہوس کا ہونا

احمد مشتاق

No comments:

Post a Comment