باتیں تیری الہام ہیں، جادو تیری آواز
رگ رگ میں اترتی ہوئی خوشبو تیری آواز
بہتے ہی چلے جاتے ہیں تہِ آب ستارے
جیسے کہیں اتری ہو لبِ جُو تیری آواز
پابندِ شب، کنج قفس میں، میرا احساس
میں شام غریباں کی اداسی کا مسافر
صحراؤں میں جیسے کوئی جگنو تیری آواز
لفظوں میں چھپاۓ ہوۓ بے ربط دلاسے
چنتی رہی شب بھر میرے آنسو تیری آواز
بس اک مرے شوق کی تسکین کی خاطر
کیا کیا نہ بدلتی رہی پہلو تیری آواز
یہ ہجر کی شب بھیگ چلی ہے کہ میرے بعد
روتی ہے کہیں کھول کے گیسو تیری آواز
دیکھوں تو وہی میں وہی چپ چپ سے در و بام
سوچوں تو بکھر جاۓ ہر سُو تیری آواز
محسنؔ کے خیالوں میں اترتی ہے سرِ شام
رِم جھم کی طرح باندھ کے گھنگھرو تیری آواز
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment