Saturday, 15 November 2014

گھر کی یاد جب صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں

گھر کی یاد جب صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں
کاش! ہم اپنی خواہش کو میسر آ جائیں
ہے کرامت مرے دل کی ترے ناوک کی نہیں
وار ہو ایک، مگر، زخم بَہتر آ جائیں
گفتگو آج تو دو ٹوک کرے گا سورج
ظلِ سبحانی شبستان سے باہر آ جائیں
شب کو یلغارِ تفکر سے جو بچ نکلوں میں
صبح دَم تازہ خیالات کے لشکر آ جائیں
اتنی سفاک سماعت بھی غضب ہے کہ جہاں
بات پوری بھی نہ ہو ہاتھوں میں پتھر آ جائیں​

پیرزادہ قاسم صدیقی

No comments:

Post a Comment