Sunday, 16 November 2014

بجز ہوا کوئی جانے نہ سلسلے تیرے

بجز ہوا کوئی جانے نہ سلسلے تیرے
میں اجنبی ہوں، کروں کس سے تذکرے تیرے
یہ کیسا قرب کا موسم ہے اے نگارِ چمن
ہوا میں رنگ، نہ خوشبو میں ذائقے تیرے
میں ٹھیک سے تیری چاہت تجھے جتا نہ سکا
کہ میری راہ میں حائل تھے مسئلے تیرے
کہاں سے لاؤں میں ترا عکس آنکھوں میں
یہ لوگ دیکھنے آتے ہیں آئینے تیرے
گلوں کو زخم، ستاروں کو اپنے اشک کہوں
سناؤں خود کو ترے بعد تبصرے تیرے
یہ درد کم تو نہیں ہے کہ تُو ہمیں نہ ملا
یہ اور بات کہ ہم بھی نہ ہو سکے تیرے
جدائیوں کا تصور رُلا گیا تجھ کو
چراغ شام سے پہلے ہی بجھ گئے تیرے
ہزار نیند جلاؤں ترے بغیر، مگر
میں خواب میں بھی نہ دیکھوں وہ رتجگے تیرے
ہوائے موسمِ گل کی ہیں لوریاں، جیسے
بکھر گئے ہوں فضاؤں میں قہقہے تیرے
کسے خبر کہ ہمیں اب بھی یاد ہیں محسنؔ
وہ کروٹیں شبِ غم کی وہ حوصلے تیرے

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment