Tuesday, 4 November 2014

جو تھا برتاؤ دنیا کا وہی اس نے کیا مجھ سے

جو تھا برتاؤ دنیا کا، وہی اس نے کیا مجھ سے
میں دنیا سے انوکھا تھا، کہ وہ کرتا وفا مجھ سے
ہوئی ہے آئینہ خانے میں کیا ایسی خطا مجھ سے
کہ تیرا عکس بھی ہے آج شرمایا ہوا مجھ سے
تپِ فرقت کا شاید کچھ مداوا ہونے والا ہے
کہ اب خود پوچھتے ہیں چارہ گر میری دوا مجھ سے
مِرے پہلو میں دل رکھ کر مجھے قسمت نے لٹوایا
نہ میرے پاس دل ہوتا، نہ کوئی مانگتا مجھ سے
جلا کر اے مذاقِ دید! تُو نے خاک کر ڈالا
جمالِ یار کا اب پوچھتا کیا ہے مزا مجھ سے
شبِ غم مجھ پہ جو گزری تھی میں اس سے نہ واقف تھا
چراغِ صبح نے شب بھر کا قصہ کہہ دیا مجھ سے
میں دیوانہ ہوں میرے پاس محشر میں کھڑے رہنا
نہ جانے میں کہوں کیا اور کیا پوچھے خدا مجھ سے
تو کیا اپنی سزائے قتل پر خود دستخط کر دوں
وہ لکھواتے ہیں کیوں جرمِ وفا کا فیصلہ مجھ سے
غلط تھی یہ مثل سب دبنے والے کو دباتے ہیں
دبا میں خاک میں، تو خاک کو دبنا پڑا مجھ سے
یہ میری حیرتِ دیدار کا انجام ہونا ہے
نہ تم جلوہ دکھاؤ گے نہ دیکھا جائے گا مجھ سے
بتا او میرے غارت گر، اب ان کو کیا بتاؤں میں
مسافر پوچھتے ہیں تیری منزل کا پتا مجھ سے
سنے کس کس کی وہ سیمابؔ کس کس کو تسلی دے
پڑے رہتے ہیں لاکھوں اُس کے در پر بے نوا مجھ سے

سیماب اکبرآبادی

No comments:

Post a Comment