Tuesday, 4 November 2014

مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں بہار نے مجھے کیا دیا

مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں بہار نے مجھے کیا دیا
تِری آرزو تو نکال دی، تِرا حوصلہ تو بڑھا دیا
گو ستم نے تیرے ہر ایک طرح مجھے ناامید بنا دیا
یہ میری وفا کا کمال ہے کہ نباہ کر کے دکھا دیا
کوئی بزم ہو کوئی انجمن یہ شعار اپنا قدیم ہے
جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں ایک چراغ جلا دیا
تجھے اب بھی میرے خلوص کا نہ یقین آئے تو کیا کروں
تیرے گیسوؤں کو سنوار کر تجھے آئینہ بھی دکھا دیا
میری شاعری میں تیرے سوا کوئی ماجرا ہے نہ مدعا
جو تیری نظر کا فسانہ تھا وہ میری غزل نے سنا دیا
یہ غریب عاجزؔ بے وطن یہ غبارِ خاطرِ انجمن
یہ خراب ہوا جس کے لئے اسی بے وفا نے بھلا دیا

کلیم عاجز

No comments:

Post a Comment