اب کے تمہارے دیس کا یہ روپ نیارا تھا
بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا
گم سم کھڑے ہیں اونچی فصیلوں کے کنگرے
کوئی صدا نہیں، مجھے کس نے پکارا تھا
رات، آسماں پہ چاند کی منڈلی میں کون تھا
ان دوریوں میں قرب کا جادو عذاب تھا
ورنہ تمہارے ہجر کا غم بھی گوارا تھا
دل سے جو ٹیس اٹھی، میں یہ سمجھا، پجاریو
پتھر کے دیوتا کا تڑپتا اشارا تھا
تالی بجی تو سامنے ناٹک کی رات تھی
آنکھیں کھلیں تو بجھتے دلوں کا نظارا تھا
دنیا کے اس بھنور سے جب ابھرتے دکھوں کے بھید
ایک اک اتھاہ بھید، خود اپنا کنارا تھا
پھر لوٹ کر نہ آیا زمانے گزر گئے
وہ لمحہ جس میں ایک زمانہ گزارا تھا
مجید امجد
No comments:
Post a Comment