Saturday, 5 December 2015

غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی

غمِ زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی
شراب لا مِری حالت خراب ہے ساقی
شباب کے لیے توبہ عذاب ہے ساقی
شراب لا مجھے پاسِ شباب ہے ساقی
اٹھا پیالہ کہ گلشن پہ پھر برسنے لگی
وہ مے کہ جس کا قدح ماہتاب ہے ساقی
نکال پردۂ مِینا سے دخترِ زر کو
گھٹا میں کس لیے یہ ماہتاب ہے ساقی
تُو واعظوں کی نہ سن میکشوں کی خدمت کر
گنہ ثواب کی خاطر ثواب ہے ساقی
زمانے بھر کے غموں کو ہے دعوتِ غرّا
کہ ایک جام میں سب کا جواب ہے ساقی
کلام جس کا ہے معراجِ حافظ و خیام
یہی وہ اخترِؔ خانہ خراب ہے ساقی

اخترؔ شیرانی

No comments:

Post a Comment