Wednesday, 2 December 2015

خزاں کے پھول پہ آتی کبھی بہار نہیں

فلمی گیت

خزاں کے پھول پہ آتی کبھی بہار نہیں
مِرے نصیب میں اے دوست تیرا پیار نہیں

نہ جانے پیار میں، میں زبان سے پھِر جاؤں
میں بن آنسو خود اپنی ہی نظر سے گر جاؤں
تِری قسم ہے میرا کوئی اعتبار نہیں
مِرے نصیب میں اے دوست تیرا پیار نہیں
خزاں کے پھول پہ آتی کبھی بہار نہیں

میں روز لب پہ نئی ایک آہ رکھتا ہوں
میں روز ایک نئے غم کی راہ تکتا ہوں
کسی خوشی کا مِرے دل کو انتظار نہیں
مِرے نصیب میں اے دوست تیرا پیار نہیں
خزاں کے پھول پہ آتی کبھی بہار نہیں

غریب کیسے محبت کرے امیروں سے
بچھڑ گئے ہیں کئی رانجھے اپنی ہیروں سے
کسی کو اپنے مقدر پہ اختیار نہیں
مِرے نصیب میں اے دوست تیرا پیار نہیں
خزاں کے پھول پہ آتی کبھی بہار نہیں

آنند بخشی

No comments:

Post a Comment