Sunday, 6 December 2015

تا ختم سفر گرمی رفتار ملی ہے

تا ختمِ سفر گرمئ رفتار ملی ہے
سایہ نہ ملا، دھوپ تو غمخوار ملی ہے
کیا فخر کریں، یہ بھی ہے کچھ ملنے میں ملنا
سر رکھ دیا قدموں میں تو دستار ملی ہے
دور ایسے کہ جس طرح کنارے ہوں افق سے
پاس اتنے کہ دیوار سے دیوار ملی ہے
کیا وقت پڑا دشت کے موسم زدگاں پر
گھر جل گئے کب کے، خبر اس بار ملی ہے
اِک حرفِ جنوں کہہ نہ سکا، مجھ سے تو محشرؔ
زنجیر ہی اچھی، جسے جھنکار ملی ہے

محشر بدایونی

No comments:

Post a Comment