تا ختمِ سفر گرمئ رفتار ملی ہے
سایہ نہ ملا، دھوپ تو غمخوار ملی ہے
کیا فخر کریں، یہ بھی ہے کچھ ملنے میں ملنا
سر رکھ دیا قدموں میں تو دستار ملی ہے
دور ایسے کہ جس طرح کنارے ہوں افق سے
کیا وقت پڑا دشت کے موسم زدگاں پر
گھر جل گئے کب کے، خبر اس بار ملی ہے
اِک حرفِ جنوں کہہ نہ سکا، مجھ سے تو محشرؔ
زنجیر ہی اچھی، جسے جھنکار ملی ہے
محشر بدایونی
No comments:
Post a Comment