دھڑکتی رہتی ہے دل میں طلب کوئی نہ کوئی
پکارتا ہے مجھے روز و شب کوئی نہ کوئی
شبِ الم تِرے سادہ دلوں پہ کیا گزری
سحر ہوئی تو سنائے گا سب کوئی نہ کوئی
زبان بند ہے آنکھوں کے بند رہنے تک
ہوائے سازِ الم لاکھ احتیاط کرے
لرز ہی اٹھتا ہے تارِ طرب کوئی نہ کوئی
گھنے بنوں میں بھی رستہ نکل ہی آتا ہے
بنا ہی دیتی ہے قدرت سبب کوئی نہ کوئی
احمد مشتاق
No comments:
Post a Comment