نادم ہیں اپنی بھول پہ ہم، بھول جائیے
جو کچھ ہُوا براہِ کرم، بھول جائیے
ہم نے سرور و لطف میں جو کچھ کہا سنا
سب جھوٹ تھا خدا کی قسم، بھول جائیے
تکلیف اور غم کا مداوا ہے ایک ہی
پی لیجیے پیالۂ سقراط بوند، بوند
آبِ حیات ہے کہ یہ سَم، بھول جائیے
ہونا بھی ایک خواب نہ ہونا بھی ایک خواب
کیا ہے وجود، کیا ہے عدم، بھول جائیے
رکھیے اب اپنی عمر کی نقدی سنبھال کر
جو خرچ ہو گئی وہ رقم، بھول جائیے
آپ ایک بار آ گئے، سو آ گئے شعورؔ
باغِ جہاں میں باغِ ارم، بھول جائیے
انور شعور
No comments:
Post a Comment