ہم اس دل کے محرم ٹھہرے، یہ کسی مصر کا زنداں تھا
لیکن کل کیا بات تھی جانے، کل یہ قصرِ چراغاں تھا
ایسا ویسا نور تھا اس میں، نور بھی نورِ کنعاں تھا
چاند ستارے در کے سائل، خواجۂ برق جو درباں تھا
ہم نے تو باہر سے دیکھا، قندیلیں تھیں یادوں کی
جاں مِری! کل کون کھڑا تھا در پہ تِرے کشکول بدست
یا بصرے کا والی تھا وہ، یا دلی کا سلطاں تھا
اپنا عشق، تغافل تیرا، یہ تو محض بہانے ہیں
مدت سے دہلیزِ جنوں پر اک سجدے کا ارماں تھا
ان کانٹوں کی یاد میں اب تک تلووں کو سہلاتے ہو
ہم خسروِ دشتِ وفا تھا، سارا دشت مغیلاں تھا
ہم تو رعبِ حسن کے مارے نام نہ اس کا پوچھ سکے
جس نے ہم کو شاہی بخشی، لوگو! کون سلیماں تھا
مُلا جی! تادیب کرو کچھ اپنے برخورداروں کی
کل بھی قیس میاں کے بَر میں، انشاؔ جی دیواں تھا
ابن انشا
No comments:
Post a Comment