ہمیں تم پہ گمانِ وحشت تھا ہم لوگوں کو رسوا کِیا تم نے
ابھی فصل گلوں کی نہیں گزری، کیوں دامن چاک کِیا تم نے
اس شہر کے لوگ بڑے ہی سخی، بڑا مان کریں درویشوں کا
پر تم سے تو اتنے برہم ہیں، کیا آن کے مانگ لیا تم نے
کن راہوں سے ہو کر آئی ہو، کس گل کا سندیسہ لائی ہو
غمِ عشق میں کاری دوا نہ دعا، یہ ہے روگ کٹھن، یہ روگ برا
ہم کرتے جو اپنے سے ہو سکتا، کبھی ہم سے بھی کچھ نہ کہا تم نے
وہ جو ’’قیس‘‘ غریب تھے ان کا جنوں کبھی کہتے ہیں ہم سے رہا ہے فزوں
ہمیں دیکھ کے ہنس تو دِیا تم نے ، کبھی دیکھیں ہیں اہلِ وفا تم نے
اب رہروِ ماندہ سے کچھ نہ کہو، یونہی شاد رہو، آباد رہو
بڑی دیر سے یاد کِیا تم نے، بڑی دور سے دی ہے صدا تم نے
اِک بات کہیں گے انشاؔ جی، تمہیں ریختہ کہتے عمر ہوئی
تم اِک جہاں کا علم پڑھے، کوئی میرؔ سا شعر کہا تم نے
ابن انشا
No comments:
Post a Comment