دل کا تھا چاک مگر پہنچایا، تا بہ گریباں انشا نے
دشت میں جا اک شہر بسایا بے سر و ساماں انشا نے
قیس کی سنت نجدِ وفا میں پھر اس شخص نے زندہ کی
ہم کو بھی پہلے یقیں نہیں آیا انشاؔ نے، ہاں انشا نے
پھر کوئی یاد پرانی جاگی، پھر کسی درد نے چٹکی لی
ایک سے ایک انوکھا تیکھا دنیا میں تو غم ہزاروں تھے
کیوں تجھے تنہا جی میں بسایا اے غم جاں! انشا نے
دل کے سنبھلنے کی کوئی صورت لازم ہے یہاں کچھ بھی نہیں
اپنے کو جب سے یہ روگ لگایا کر لیا حیراں انشا نے
اب اسے دنیا وحشی و رسوا خوار و پریشاں کچھ بھی کہے
عشق کیا اور کر کے نبھایا عشق کے شایاں انشا نے
ابن انشا
No comments:
Post a Comment