بستیاں قریے گھوم چکے اب دشت کو لوٹیں بن کو چلیں
شام ہوئی آوارہ غزالو! آؤ کہ اپنے وطن کو چلیں
تم اور ہم سے پیار کرو گے، جھوٹ ہے لو بھی بنجارو’’
‘‘بیچو گے بیوپار کرو گے، تم سے دور بھلے پیارو
بیٹھا ہے وہ جو آگ جلائے، کھوہ کے منہ پر چرواہا
وہ بھی ہے تیر کمان سجائے اس سے بھی ہم کو بچنا ہوا
پچھم میں جہاں پیڑ گھنے ہیں، ان سے بھی لوگو دور ہی دور
ان میں وہ اپنی جان کے بَیری چیتے باگھ چھپے ہیں ضرور
ہر کوئی دیکھ کے جال بچھائے، ہر کوئی اٹھ کے وار کرے
بستیاں قریے گھوم چکے ہم، کوئی نہ ہم سے پیار کرے
لائے تھے ہم اسے کس کو دکھانے، لے چلیں دکھتے من کو چلیں
شام ہوئی آوارہ غزالو! آؤ کہ اپنے وطن کو چلیں
ابن انشا
شام ہوئی آوارہ غزالو! آؤ کہ اپنے وطن کو چلیں
تم اور ہم سے پیار کرو گے، جھوٹ ہے لو بھی بنجارو’’
‘‘بیچو گے بیوپار کرو گے، تم سے دور بھلے پیارو
بیٹھا ہے وہ جو آگ جلائے، کھوہ کے منہ پر چرواہا
وہ بھی ہے تیر کمان سجائے اس سے بھی ہم کو بچنا ہوا
پچھم میں جہاں پیڑ گھنے ہیں، ان سے بھی لوگو دور ہی دور
ان میں وہ اپنی جان کے بَیری چیتے باگھ چھپے ہیں ضرور
ہر کوئی دیکھ کے جال بچھائے، ہر کوئی اٹھ کے وار کرے
بستیاں قریے گھوم چکے ہم، کوئی نہ ہم سے پیار کرے
لائے تھے ہم اسے کس کو دکھانے، لے چلیں دکھتے من کو چلیں
شام ہوئی آوارہ غزالو! آؤ کہ اپنے وطن کو چلیں
ابن انشا
No comments:
Post a Comment