Thursday, 14 January 2016

گوشہ میں کوئی لگا نہ ہووے

اقتباس از مثنوی گلزار نسیم

گوشہ میں کوئی لگا نہ ہووے
خوشہ کوئی تاکتا نہ ہووے
گو باغ کے پاسپاں غضب تھے
خوابیدہ برنگ سبزہ سب تھے
پانی کے جو بلبلوں میں تھا گل
پہنچا لبِ حوض سے نہ چنگل
پوشاک اتار اتر کے لایا
پھولا نہ وہ جامہ میں سمایا
گل لے کے بڑھا ایاغ برکف
چوری سے چلا چراغ برکف
گل ہاتھ میں مثلِ دستِ بیضا
اس نقب کی آستیں سے نکلا
گل لے کے جب آ ملا وہ گلچیں
اس نقب کی رخنہ بندیاں کیں

دیا شنکر نسیم

No comments:

Post a Comment