اقتباس از مثنوی گلزار نسیم
گوشہ میں کوئی لگا نہ ہووے
خوشہ کوئی تاکتا نہ ہووے
گو باغ کے پاسپاں غضب تھے
خوابیدہ برنگ سبزہ سب تھے
پانی کے جو بلبلوں میں تھا گل
پہنچا لبِ حوض سے نہ چنگل
پوشاک اتار اتر کے لایا
پھولا نہ وہ جامہ میں سمایا
گل لے کے بڑھا ایاغ برکف
چوری سے چلا چراغ برکف
گل ہاتھ میں مثلِ دستِ بیضا
اس نقب کی آستیں سے نکلا
گل لے کے جب آ ملا وہ گلچیں
اس نقب کی رخنہ بندیاں کیں
دیا شنکر نسیم
گوشہ میں کوئی لگا نہ ہووے
خوشہ کوئی تاکتا نہ ہووے
گو باغ کے پاسپاں غضب تھے
خوابیدہ برنگ سبزہ سب تھے
پانی کے جو بلبلوں میں تھا گل
پہنچا لبِ حوض سے نہ چنگل
پوشاک اتار اتر کے لایا
پھولا نہ وہ جامہ میں سمایا
گل لے کے بڑھا ایاغ برکف
چوری سے چلا چراغ برکف
گل ہاتھ میں مثلِ دستِ بیضا
اس نقب کی آستیں سے نکلا
گل لے کے جب آ ملا وہ گلچیں
اس نقب کی رخنہ بندیاں کیں
دیا شنکر نسیم
No comments:
Post a Comment