نہ اشک آنکھ میں باقی نہ پیاس ہوتی ہے
وہ بهی اس بات سے میری اداس ہوتی ہے
ہوا کے ساتھ بهٹکتا ہوں اس تجسس میں
کہاں کی آب و ہوا مجھ کو راس ہوتی ہے
وہ ضد ہے یا کہ انا ہے جو مسکراتی ہے
بجهائے کس طرح تشنہ لبی کو اشکوں سے
وہ مجھ سے سیکھ لے جِس کو بهی پیاس ہوتی ہے
میں اس لیے کبهی فرقت کا غم نہیں کرتا
کہ ان سے خواب میں ملنے کی آس ہوتی ہے
رقیب سب میرے ہم غم ہیں، دوستوں سے ہیں
ہے دوستی وہی جو غم شناس ہوتی ہے
تیرے خیال سے روشن شبِ فراق میری
ہے ایک بوند بهی ساغر جو پیاس ہوتی ہے
حیاتؔ وصلِ محبت کی تُو خوشی نہ منا
زمانے بهر کی نظر بے لباس ہوتی ہے
جاوید حیات
No comments:
Post a Comment