Thursday, 14 January 2016

نہ اشک آنکھ میں باقی نہ پیاس ہوتی ہے

نہ اشک آنکھ میں باقی نہ پیاس ہوتی ہے
وہ بهی اس بات سے میری اداس ہوتی ہے
ہوا کے ساتھ بهٹکتا ہوں اس تجسس میں
کہاں کی آب و ہوا مجھ کو راس ہوتی ہے
وہ ضد ہے یا کہ انا ہے جو مسکراتی ہے
اگرچہ شام بهی اس کی اداس ہوتی ہے
بجهائے کس طرح تشنہ لبی کو اشکوں سے
وہ مجھ سے سیکھ لے جِس کو بهی پیاس ہوتی ہے
میں اس لیے کبهی فرقت کا غم نہیں کرتا
کہ ان سے خواب میں ملنے کی آس ہوتی ہے
رقیب سب میرے ہم غم ہیں، دوستوں سے ہیں
ہے دوستی وہی جو غم شناس ہوتی ہے
تیرے خیال سے روشن شبِ فراق میری
ہے ایک بوند بهی ساغر جو پیاس ہوتی ہے
حیاتؔ وصلِ محبت کی تُو خوشی نہ منا
زمانے بهر کی نظر بے لباس ہوتی ہے

جاوید حیات

No comments:

Post a Comment