عہدِ وفا کے بعد پهر آرام نہ ملا
صبح کو گر ملا تو سرِ شام نہ ملا
تشنہ لبی کو اشک بهی آنکهوں سے نہ ملے
ساقی کی بزم میں بهی کوئی جام نہ ملا
عہدِ وفا کو سب نے دیا خودکشی کا نام
اس کی نظر کے تیر سے بچ کر گیا ہے کون
ہے کون جِسے موت کا پیغام نہ ملا
مشہور ہوئے اور ستم کر کے ستمگر
اہلِ جنوں کو ظرف کا انعام نہ ملا
رسوا کیا مجهے ہی فقط اس نے بزم میں
محفل میں کوئی دوسرا بدنام نہ ملا
الفت میں میری موت کو سمجها وہ انتہا
مٹی کو میرا جِسم ملا ۔۔ نام نہ ملا
بانٹے حیاتؔ پهول محبت کے ہر طرف
بس اس کے سوا اور ہمیں کام نہ ملا
جاوید حیات
No comments:
Post a Comment